ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ایٹم بم سے کسی کو برتری حاصل نہیں ہوتی اور اسے استعمال بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی اور پاکستانی قوموں کےگہرے تعلقات ایٹم بم اور اقتصادی مسائل کی وجہ سے نہيں ہیں بلکہ انسانی، تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر ہیں۔
[صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ عالمی تعلقات میں زور زبردستی کے خاتمہ اور امن و برادری کے پرچار کو ایران پاکستان اور افغانستان اور ان کی قوموں کا مشترکہ ھدف قراردیا اور کہا کہ وہ مستقبل میں بڑی بڑی کامیابیوں کی امید و اطمئنان رکھتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے تاکید کی کہ علاقے کی قوموں کے درمیان کوئي بنیادی مشکل نہیں ہے بلکہ سارے مسائل بیرونی ملکوں کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائي مسائل کو علاقائي ملکوں کی مدد سے حل کیاجانا چاہیے اور اسلام آباد کی اس سربراہی نشست بھی اسی مقصد کے تحت منعقد کی گئي ہے اور تینوں ممالک اس ھدف تک پہنچنے کے لئے پختہ عزم رکھتے ہیں۔
یادرہے اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان اور افغانستان کے سربراہی اجلاس کا ھدف سہ فریقی تعلقات میں فروغ لانا، مشترکہ طورپر علاقے میں دہشتگردی سے مقابلہ کرنا، انسداد منشیات اور ملکوں کے داخلی امور میں امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کی مداخلت کا سد باب کرناہے۔ ادھر پاکستان ایران اور افغانستان کی سربراہی کانفرنس کا اعلامیہ جاری کردیاگيا ہے۔ بیس نکاتی اعلامئے میں تینوں صدور نے مشترکہ تعاون میں فروغ لانے پر زور دیا ہے۔
اس اعلاميے میں کہا گيا ہے کہ تینوں ممالک خود مختاری، آزادی اتحاد اور داخلی سلامتی کو یقینی بنائيں گے اور اپنی حدود کسی دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس اعلاميے میں ایران پاکستان گيس پائپ لائن منصوبے پر کسی غیر ملکی دباؤ کو خاطر میں نہ لانے کا عزم بھی ظاہر کیا گيا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گيلانی نے پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران اور افغانستان کی سربراہ کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ .........
/169